مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل تمر به المرأة فينظر إليها، من كره ذلك باب: بدنظری کی ممانعت
حدیث نمبر: 18106
١٨١٠٦ - حدثنا حسين بن علي عن موسى (الجهني) (١) قال: كنت مع سعيد ابن جبير في طريق (فاستقبلتنا) (٢) امرأة (أو جارية) (٣) (قال) (٤): فنظرنا إليها جميعًا قال: (ثم) (٥) إن سعيدًا غض بصره فنظرت إليها (قال) (٦): فقال لي سعيد: الأولى لك (والثانية) (٧) عليك.مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ جہنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک راستے میں حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے ساتھ تھا۔ ہمارے سامنے ایک عورت یا لڑکی آئی تو ہم سب کی نگاہ اس پر پڑگئی، پھر حضرت سعید نے نگاہ جھکا لی لیکن میں دیکھتا رہا، مجھ سے حضرت سعید نے فرمایا کہ پہلی نظر میں پکڑ نہیں لیکن دوسری میں پکڑ ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (الجريني)، في [ب]: (الحريني).
(٢) في [س]: (فاستقبلنا).
(٣) زيادة من [جـ، ز، ك].
(٤) زيادة من [جـ، ز، ك].
(٥) سقط من: [س].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [س]: (وثانيه).