مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في الرجل يتزوج، ما يقال له؟ باب: جس آدمی کی شادی ہو اسے کیا دعادینی چاہئے؟
حدیث نمبر: 18100
١٨١٠٠ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن عقيل بن أبي طالب تزوج امرأة من بني (جشم) (١) فدعاهم فقالوا: بالرفاء والبنين، فقال: لا تقولوا ذاك، قالوا: كيف نقول يا أبا (يزيد) (٢)؟ قال: تقولون بارك اللَّه لك وبارك عليك، فإنا كنا نقول أو نؤمر بذلك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم کی ایک عورت سے شادی کی پھر لوگوں کی دعوت کی تو لوگوں نے انہیں بِالرِّفَائِ والبَنِیْنَ کہہ کر دعا دی۔ انہوں نے فرمایا کہ یوں نہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر ہم کیا کہیں تو انہوں نے فرمایا کہ تم کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے کیونکہ ہمیں یہی کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (خشم)، وفي [س]: (هشيم).
(٢) في [س]: (زيد).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يدرك عقيلًا، أخرجه أحمد (١٧٣٩)، وابن ماجه (١٩٠٦)، والنسائي ٦/ ١٢٨، والدارمي (٢١٧٣)، والطبراني ١٧/ (٥١٤)، وفي الدعاء (٩٣٧)، والبيهقي ٧/ ١٤٨، وعبد الرزاق (١٠٤٥٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦٧).