مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
المرأة الصالحة والسيئة الخلق باب: اچھے اخلاق والی اور برے اخلاق والی عورت
١٨٠٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) (٢) شيبان قال: (أنا) (٣) عبد الملك ابن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: النساء ثلاثة: (امرأة) (٤) هينة (لينة) (٥) عفيفة مسلمة (ودود) (٦)، ولود تعين أهلها على الدهر ولا تعين الدهر على أهلها وقل ما (يجدها) (٧)، ثانية: امرأة عفيفة مسلمة إنما هي وعاء للولد ليس عندها غير ذلك، ثالثة: غل قمل يجعلها اللَّه في عنق من يشاء (٨) لا ينزعها غيره، الرجال ثلاثة: رجل عفيف مسلم عاقل يأتمر في الأمور إذا أقبلت و (تشبهت) (٩) فإذا وقعت (خرج) (١٠) منها برأيه، ورجل ⦗٤٧٦⦘ عفيف مسلم ليس له رأي فإذا وقع الأمر أتى ذا الرأي والمشورة فشاوره واستأمره ثم نزل عند أمره، ورجل (جائر (بائر)) (١١) (١٢) لا يأتمر رشدًا ولا يطيع مرشدًا (١٣).حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں تین قسم کی ہیں : ایک وہ اچھے مزاج والی، نرم طبیعت والی، پاکدامن، مسلمان، محبت کرنے والی، اولاد کو جنم دینے والی بیوی جو اپنے خاوند کی ہر حال میں معاونت کرے اور مصیبتوں پر شکوہ نہ کرے۔ لیکن ایسی عورت بہت کم ملتی ہے۔ دوسری وہ پاکدامن اور مسلمان عورت، جو بچوں کی تربیت کرے اور اسے بچوں کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔ تیسری وہ عورت جو بدمزاج اور بدفطرت ہو۔ اللہ تعالیٰ ایسی عورت جس کے گلے میں چاہے ڈال دیتا ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ مردوں کی بھی تین قسمیں ہیں : ایک وہ پاکدامن مسلمان سمجھد ار مردجوہر طرح کے معاملات کی فہم رکھتا ہو، اگر کسی مشکل میں مبتلاہو تو اپنی دانائی کی وجہ سے اس سے نکل جائے۔ دوسرا وہ پاکدامن مسلمان مرد جو خود تو صاحب الرائے نہ ہو لیکن جب کوئی معاملہ پیش آئے تو سمجھدار اور صاحب الرائے سے مشورہ کرے اور اس کے مشورے پر عمل کرے اور تیسرا وہ نادان اور بیوقوف شخص جو نہ خود صاحب الرائے ہو نہ کسی سمجھدار سے مشورہ کرے اور نہ کسی خیر خواہ کی اطاعت کرے۔