حدیث نمبر: 18028
١٨٠٢٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن (فراس) (١) عن الشعبي عن أبي (بردة) (٢) عن أبي موسى (قال) (٣): ثلاثة يدعون فلا يستجاب لهم: رجل (آتى) (٤) سفيها ماله وقال اللَّه ﵎: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ [النساء: ٥]، ورجل كانت عنده امرأة سيئة الخلق فلم يطلقها أو لم يفارقها ورجل كان له على رجل حق فلم يشهد عليه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین لوگ ایسے ہیں جو بلاتے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی بیوقوف کے پاس مال رکھوایا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تم اپنا مال بیوقوفوں کے پاس مت رکھواؤ۔ دوسرا وہ آدمی جس کے نکاح میں کوئی بداخلاق عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے اور نہ اس سے جدائی اختیار کرے۔ تیسرا وہ آدمی جس کا حق کسی آدمی پر لازم ہو لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔

حواشی
(١) في [س]: (فراش).
(٢) في [أ، ب]: (برزة).
(٣) في [س]: (قا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (أعطى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18028
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18028، ترقيم محمد عوامة 17429)