مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
المرأة الصالحة والسيئة الخلق باب: اچھے اخلاق والی اور برے اخلاق والی عورت
حدیث نمبر: 18026
١٨٠٢٦ - حدثنا ابن علية عن يونس عن معاوية بن قرة عن أبيه قال: قال عمر: ما استفاد رجل -أو قال عبد- بعد إيمان باللَّه خيرًا من امرأة حسنة الخلق ودود ولود وما استفاد رجل بعد الكفر باللَّه شرًا من امرأة سيئة الخلق حديدة اللسان ⦗٤٧٤⦘ ثم قال: إن منهن غنمًا لا يحذى منه وإن منهن (غلالًا يفدى) (١) منه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد آدمی کو اچھے اخلاق والی، زیادہ محبت کرنے والی اور بچوں کو جنم دینے والی عورت سے بڑھ کر خیر عطا نہیں ہوئی۔ اور کفر کے بعد آدمی کو برے اخلاق والی اور تیز زبان والی بیوی سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں ملی۔ بعض عورتیں ایسی نعمت ہیں جن سے بےرغبتی نہیں رکھی جاسکتی اور بعض عورتیں ایسی مصیبت ہیں کہ ان سے بچا نہیں جاسکتا۔
حواشی
(١) في (س): (غلامًا يفدى)، وفي [أ، ب]: (غلامًا يفرى)، وفي [هـ]: (غلًا لا يفدى).