حدیث نمبر: 18021
١٨٠٢١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر أن (سلمان) (١) قدمه (قومه) (٢) ليصلي فأبى عليهم حتى دفعوه، فلما صلى بهم قال: أكلكم راض؛ قالوا: نعم! قال: الحمد للَّه! إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ثلاثة لا تقبل صلاتهم: المرأة تخرج من (بيت زوجها بغير إذنه) (٣) والعبد الآبق والرجل يؤم قومًا وهم له كارهون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم نے نماز پڑھانے کے لئے آگے کیا، انہوں نے انکار کیا لیکن لوگوں نے اصرار کرکے انہیں آگے کر ہی دیا، جب وہ نماز پڑھا کر فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے سے راضی ہو ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ ایک وہ عورت جو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے، دوسرا بھاگا ہوا غلام اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں۔

حواشی
(١) في [هـ]: (سليمان).
(٢) في [أ، ب، س، هـ]: (قوم).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (بيتها بغير إذنه يعني زوجها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 18021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا ومنقطع، وهم أبو أسامة في قوله (ابن جابر)، وإنما هو ابن تميم، والقاسم لم يدرك سلمان، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٤٥٣)، وتقدم ١/ ٤٠٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18021، ترقيم محمد عوامة 17422)