حدیث نمبر: 18009
١٨٠٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن حصين ابن (محصن) (١) (٢) (أن عمة) (٣) له أتت النبي ﷺ تطلب حاجة فلما قضت حاجتها قال: "ألك (زوج؟) (٤) "، قالت: نعم! قال: "فأين (أنت) (٥) منه؟ "، قالت: ما آلوه خيرًا إلا ما عجزت عنه قال: "انظري فإنه جنتك ونارك" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین بن محصن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی کسی کام کے سلسلے میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جب حاجت پوری ہوگئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے خاوند ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ان کی بھلائی کا ہی سوچتی ہوں، سوائے اس کے کہ میں عاجز آ جاؤں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دھیان رکھنا وہی تمہاری جنت ہے اور وہی تمہاری جہنم ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (محصن)، وفي [ب]: (محسن).
(٢) في [أ، ب، ط]: زيادة (عن عمر)، وفي [ك، ز]: (عن محصن).
(٣) في [ك]: تكرر ما بين القوسين.
(٤) في [ط، أ، ب، س، جـ]: (زوجًا).
(٥) في [س]: (أتت).
(٦) مجهول؛ حصين مجهول، أخرجه أحمد (٢٧٣٥٢)، والنسائي في الكبرى (٨٩٦٧)، والطبراني ٢٥/ (٤٤٨)، والحاكم ٢/ ١٨٩، والبيهقي ٧/ ٢٩١، والحميدي (٣٥٥)، وابن سعد ٨/ ٤٥٩، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٥٧)، إسحاق (٢١٨٢)، والمزي ٦/ ٥٣٩، وابن عساكر ٥٦/ ١٢٩، وابن بشكوال ١/ ٧٠، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ٣٧، وابن أبي الدنيا في العيال (٥٢٩).