١٨٠٠٨ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن ليث عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عمر قال: أتت امرأة نبي اللَّه ﷺ (٢) فقالت: يا رسول اللَّه! ما حق (الزوج) (٣) على امرأته؟ (قال) (٤): (لا تمنعه) (٥) نفسها ولو كانت على ظهر قتب (قالت) (٦): يا رسول اللَّه! ما حق الزوج على زوجته؟ (قال) (٧): (لا تصدق بشيء من بيته إلا بإذنه فإن فعلت [كان له الأجر، وعليها الوزر"، قالت: يا نبي اللَّه، ما حق الزوج على زوجته؟ قال: [لا تخرج من بيته الا لإذنه، فإن فعلت] (٨) لعنتها ملائكة اللَّه وملائكة الرحمة وملائكة الغضب حتى (تتوب) (٩) أو (ترجع) (١٠) "، قالت: يا نبي اللَّه: فإن كان لها ظالمًا؟ قال: "وإن كان لها ظالمًا"، قالت: والذي بعثك بالحق لا يملك علي أحد أمري بعد هذا أبدًا ما بقيت (١١).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خاوند کا حق یہ ہے کہ بیوی اسے اپنے نفس سے منع نہ کرے خواہ وہ چکی پر بیٹھی ہو۔ اس عورت نے پھر سوال کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خاوند کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خاوند کو اجر اور بیوی کو گناہ ملے گا۔ اس عورت نے پھر عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر اللہ کے فرشتے، رحمت کے فرشتے اور غضب کے فرشتے اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ توبہ نہ کرلے یا واپس نہ آجائے۔ اس عورت نے سوال کیا کہ خواہ اس کا خاوند ظالم ہی ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں خواہ وہ ظالم ہی ہو۔ پھر اس عورت نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے آج کے بعد میں اپنے معاملے کا مالک کسی کو نہیں بناؤں گی یعنی شادی نہیں کروں گی۔