١٨٠٠٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا ربيعة بن عثمان عن محمد بن يحيى ابن حبان عن نهار العبدي وكان من أصحاب أبي سعيد الخدري عن أبي سعيد أن رجلًا أتى بابنة له إلى النبي ﷺ فقال: (إن) (١) ابنتي قد أبت أن تتزوج قال: (فقال) (٢) لها: "أطيعي أباك"، (قال) (٣): (فقالت) (٤): لا (٥) حتى تخبرني ما حق الزوج على ⦗٤٦٦⦘ زوجته؟ فرددت عليه مقالتها، قال: فقال: "حق (الزوج) (٦) على زوجته: أن لو (كان) (٧) به (قرحة) (٨) فلحستها او ابتدر (منخراه) (٩) (صديدًا أو دمًا) (١٠) (١١) ثم لحسته ما أدت حقه"، قال: فقالت: والذي بعثك بالحق لا أتزوج أبدًا قال: فقال: "لا تنكحوهن إلا بإذنهن" (١٢).حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو لے کر حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کررہی ہے۔ حضور ﷺ نے اس بچی سے فرمایا کہ اپنے باپ کی بات مان لو۔ اس لڑکی نے کہا کہ میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتادیں کہ بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ اگر خاوند کو پھوڑا نکل آئے اور اس کی بیوی اس پھوڑے کو چاٹے یا اس سے پیپ اور خون نکلے اس کی بیوی اس کو چاٹے تو پھر بھی اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اس پر اس لڑکی نے کہا کہ پھر تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔ پھر حضور ﷺ نے اس کے باپ سے فرمایا کہ عورتوں کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر نہ کرو۔