مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يتزوج) المرأة فيموت عنها ولم (يفرض) لها باب: نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
١٨٠٠٢ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع قال: تزوج ابن لعبد اللَّه ابن عمر بنتًا (لعبيد اللَّه) (٢) بن عمر، (و) (٣) كانت أمها أسماء بنت زيد بن الخطاب فتوفي ولم يكن فرض لها صداقًا فطلبوا منه الصداق والميراث فقال ابن عمر: لها الميراث، ولا صداق لها، فأبوا ذلك على ابن عمر فجعلوا بينهم زيد بن ثابت فقال زيد (٤): لها الميراث ولا صداق لها (٥).حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی سے شادی کی۔ اس لڑکی کی والدہ کا نام اسماء بنت زید بن خطاب تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس بیٹے کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔ لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مہر اور میراث کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث بنایا تو حضرت زید نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گی۔