مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يتزوج) المرأة فيموت عنها ولم (يفرض) لها باب: نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
١٨٠٠١ - حدثنا ابن أبي زائدة عن داود عن الشعبي عن علقمة قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن رجلًا منا تزوج امرأة ولم يفرض لها ولم (يجمعها) (١) حتى مات فقال ابن مسعود: ما سئلت عن شيء منذ فارقت النبي ﷺ أشد علي من هذا، سلوا غيري، فترددوا فيها شهرًا (قال) (٢) فقال: من أسأل وأنتم (أجلة) (٣) أصحاب محمد بهذا البلد؟ فقال: سأقول فيها برأيي فإن يكن صوابًا فمن اللَّه، وإن يكن خطأ فمني و (من) (٤) الشيطان، أرى أن لها مهر نسائها (٥) لا وكس ولا شطط، ولها الميراث وعليها عدة المتوفى عنها زوجها، فقال ناس من (أشجع) (٦): نشهد أن رسول اللَّه ﷺ (٧) قضى مثل الذي قضيت في امرأة منا يقال لها: (بروع) (٨) ابنة ⦗٤٦٤⦘ واشق قال (٩): فما رأيت ابن مسعود فرح بشيء ما فرح يومئذ به (١٠).حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے اور اس سے جماع کرنے سے پہلے انتقال کرگیا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد اب تک مجھ سے اتنا مشکل سوال نہیں کیا گیا، تم کسی اور سے پوچھ لو، لوگ ایک ماہ ادھر ادھر سوال کرتے پھرتے رہے لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچے۔ چناچہ وہ آدمی پھر حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ آپ اس شہر میں محمد ﷺ کے صحابہ میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، آپ ہی بتا دیجئے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے بات کروں گا، اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہو تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے خاندان کی عورت کے برابر مہر ملے گا نہ کم نہ زیادہ، اور اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر اس عورت کی عدت لازم ہوگی جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ سن کر بنو اشجع کے لوگ کہنے لگے کہ ہم گواہی دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جتنا خوش دیکھا اتنا خوش میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔