مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (يتزوج) المرأة فيموت عنها ولم (يفرض) لها باب: نکاح کے بعد مہر دینے سے پہلے اگر خاوند کا انتقال ہوجائے
حدیث نمبر: 17995
١٧٩٩٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع (أن) (١) ابن عمر (زوج) (٢) ابنًا له امرأة من أهله فتوفي قبل أن يدخل بها ولم يسم لها صداقًا فطلبوا إلى ابن عمر الصداق (فقال: ليس) (٣) لها [(صداق، فأبوا أن يرضوا) (٤) بذلك فجعلوا بينهم ⦗٤٦٢⦘ زيد بن ثابت فأتوه فقال: ليس لها صداق] (٥) (٦) (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کرائی۔ ان کا انتقال مہر کے مقرر کرنے سے پہلے اور دخول کرنے سے پہلے ہوگیا، لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مہر کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے لئے کوئی مہر نہیں ہے، انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث بنایا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس عورت کو مہر نہیں ملے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، ز، جـ، ط، ك]: (تزوج).
(٣) في [س]: (فليس).
(٤) في [س]: (الصداق قالوا: أن يرضوا).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) في [جـ، ز، ك]: زيادة (حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: قال زيد بن ثابت).