مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المرأة يتوفى عنها زوجها فتضع بعد وفاته (بيسير) باب: اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کوجنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
حدیث نمبر: 17991
١٧٩٩١ - حدثنا شبابة عن شعبة عن عبيد بن الحسن عن عبد الرحمن بن (معقل) (١) قال: شهدت عليًا وساله رجل عن امرأة توفي عنها زوجها وهي حامل قال: تتربصن أبعد الأجلين فقال (رجل: إن) (٢) ابن مسعود (يقول) (٣): (لتبتغي) (٤) (لنفسها) (٥)؛ فقال علي: إن فروخ لا يعلم) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھا، ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ لمبی مدت کو عدت بنائے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو وضع حمل پر عدت کے مکمل ہونے کا فتوی دیتے ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ نہیں جانتے۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (مغفل).
(٢) سقط من [أ، ب، س، ط، هـ].
(٣) في [س]: سقط (يقول)، وفي [هـ]: (نقول).
(٤) في [هـ]: (تسفي)، وفي [خ]: (لهفي)، وانظر: الناسخ والمنسوخ لابن النحاس ١/ ٢٤٢، وفي [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (لتبغى)، أي: لتبحث عن زوج.
(٥) في [أ، س، ز، ط، هـ]: (نفسها).