مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المرأة يتوفى عنها زوجها فتضع بعد وفاته (بيسير) باب: اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کوجنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
حدیث نمبر: 17987
١٧٩٨٧ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن ابن سيرين قال: كنت في حلقة فيها عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: فقال: آخر الأجلين قال: فذكرت حديث عبد اللَّه ابن عتبة عن سبيعة قال: (فضمز لي بعض أصحابه) (١)، قال: فقلت: إني (لجريء) (٢) ⦗٤٥٨⦘ على عبد اللَّه (بن) (٣) عتبة إن كذبت عليه وهو ناحية (المسجد) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے حلقے میں تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ حاملہ کی عدت دونوں میں سے زیادہ طویل مدت ہے۔ اس پر میں نے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی تو ان کے شاگرد مجھے گھورنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ جب کہ انہوں نے مسجد کے ایک گوشے میں اس کو بیان کیا۔
حواشی
(١) أي: عض على شفتيه لأسكت، وفي [أ، ب]: (فضمن لي أصحابه)، وفي [ز، ك، جـ]: (فغمز إلى أصحابه)، وفي [س]: (فضمر)، وفي [ط]: (فغربى أصحابه)، وفي [هـ]: (فغمز إلى بعمق أصحابه).
(٢) في [س]: (مجرى)، وفي [جـ]: (لجرير).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [هـ]: (الكوفة).