مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المرأة يتوفى عنها زوجها فتضع بعد وفاته (بيسير) باب: اگر حاملہ کا خاوند فوت ہوجائے تو جن حضرات کے نزدیک بچے کوجنم دینے سے عدت پوری ہوجائے گی
١٧٩٧٩ - حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن (١) إسحاق عن الزهري عن سعيد ابن المسيب أن عمر استشار علي بن أبي طالب (٢) وزيد بن ثابت قال زيد: قد ⦗٤٥٦⦘ حلت وقال علي: أربعة أشهر وعشرًا قال زيد: (أرأيت) (٣) إن (كانت يئيسًا) (٤) قال علي: فآخر الأجلين، قال عمر: لو وضعت ذا بطنها وزوجها على نعشه لم يدخل حفرته لكانت قد حلت (٥).حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بچے کو جنم دیتے ہی عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ اگر عورت ایسی عمر کو پہنچ چکی ہو جس میں حمل اور ولادت کا تصور نہیں ہوتا تو اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ طویل مدت عدت کی مدت ہوگی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر حاملہ کے خاوند کی نعش کو قبر میں نہ اتارا گیا ہو اور وہ بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔