حدیث نمبر: 17975
١٧٩٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن (يحيى) (١) بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (٢) عن أبي سلمة قال: كنت أنا وابن عباس وأبو هريرة فتذاكرنا: الرجل يموت عن المرأة فتضع بعد وفاته (بيسير) (٣) فقلت: إذا وضعت فقد حلت، (وقال) (٤) ابن عباس: أجلها آخر الأجلين (فتراجعا) (٥) بذلك، فقال أبو هريرة: أنا مع ابن أخي (يعني) (٦) أبا سلمة فبعثوا كريبًا مولى ابن عباس إلى أم سلمة فقالت: إن سبيعة الأسلمية وضعت بعد وفاة زوجها بأربعين ليلة وإن رجلًا من بني عبد الدار يكنى أبا السنابل خطبها وأخبرها أنها قد حلت، فأرادت أن تتزوج غيره، فقال لها أبو السنابل: (إنك) (٧) لم (تحلين) (٨) فذكرت ذلك سبيعة لرسول اللَّه ﷺ فأمرها أن تتزوج (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ما ایک مجلس میں تھے۔ ہمارے درمیان مذاکرہ ہوا کہ اگر ایک عورت کا خاوند مرجائے اور وہ عورت خاوند کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد بچے کو جنم دے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہوگا ؟ میں نے کہا کہ اس کی عدت مکمل ہوجائے گی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں سے جو زیادہ ہو وہ اس کی عدت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو اپنے بھائی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد بنو عبد الدار کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو سنابل تھی انہوں نے سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ کی عدت مکمل ہوچکی ہے۔ سبیعہ نے کسی اور سے نکاح کا ارادہ کیا تو ابوسنابل نے کہا کہ تمہاری عدت مکمل نہیں ہوئی۔ سبیعہ نے اس بات کا حضور ﷺ سے تذکرہ کیا تو آپ نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دے دی۔

حواشی
(١) سقط من [ف].
(٢) في [أ، ب]: (سيار).
(٣) في [ط]: (يسير)، وفي [س]: (ليسير).
(٤) في [س]: (فقال).
(٥) في [س]: (فتراجع).
(٦) في [أ، ب]: سقط (يعني).
(٧) في [أ، ب]: (إذًا)
(٨) كذا في النسخ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٠٩)، ومسلم (١٤٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17975، ترقيم محمد عوامة 17377)