مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يطلق امرأته فيتزوجها رجل (ليحلها) له باب: ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسرا آدمی اس سے اس لئے شادی کرے تاکہ وہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے اس کا کیا حکم ہے؟
١٧٩٧١ - حدثنا (حميد) (١) بن عبد الرحمن عن موسى بن أبي الفرات عن (عمرو) (٢) بن دينار أنه سئل (عن) (٣) رجل طلق امرأته (فجاء) (٤) رجل من أهل القرية بغير علمه ولا علمها، فأخرج شيئًا من ماله (فتزوجها) (٥) (٦) ليحلها له فقال: ⦗٤٥٢⦘ لا، ثم ذكر أن النبي ﷺ سئل عن مثل ذلك فقال: [لا، حتى (ينكحها) (٧) (مرتغبًا) (٨) النفسه) (٩)، حتى يتزوجها (مرتغبًا) (١٠) لنفسه فإذا فعل ذلك] (١١) لم تحل له حتى (تذوق) (١٢) (العسيلة) (١٣) (١٤).حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے، پھر دیہات سے ایک آدمی آئے جو نہ مرد کو جانتا ہو اور نہ عورت کو، وہ اپنا کچھ مال نکالے اور عورت سے اس بنیاد پر شادی کرے کہ عورت کو مرد کے لئے حلال کرے تو یہ کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔ حضور ﷺ سے یہی سوال کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا یہ درست نہیں۔ اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے، اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو عورت پہلے خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک آدمی عورت کا شہد نہ چکھ لے۔