حدیث نمبر: 17946
١٧٩٤٦ - حدثنا عبدة عن عبد العزيز بن عمر عن الربيع بن (سبرة) (١) عن أبيه قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ قائمًا بين الركن والباب وهو يقول: "أيها الناس! إني كنت أذنت لكم في الاستمتاع، ألا وإن اللَّه حرمها إلى (يوم القيامة) (٢) فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيله، ولا تأخذوا مما آتيتموهن (شيئًا) (٣) " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبرہ جہنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے تھے اور فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام قرار دے دیا ہے، اگر کسی کے پاس متعہ والی بیوی ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے اور جو مہر تم نے انہیں دیا ہے وہ واپس نہ لو۔
حواشی
(١) في [ب]: (جرة)، وفي [أ، هـ، س]: (مرة).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ك]: (سيا).