حدیث نمبر: 17918
١٧٩١٨ - حدثنا (ابن) (١) نمير عن هشام (بن) (٢) عروة عن أبيه عن زينب بنت (أم) (٣) سلمة (عن) (أم سلمة أن) (٤) (عن) (٥) أم حبيبة قالت: يا رسول اللَّه! ⦗٤٣٩⦘ هل لك في أختي ابنة أبي سفيان؟ قال: "إنها لا تحل لي"، قالت: فإنه قد بلغني (أنك) (٦) (تخطب) (٧) درة بنت أبي سلمة قال: "بنت (أم) (٨) سلمة؟ " قالت: نعم! قال: "واللَّه إن لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي، إنها ابنة أخي من الرضاعة، أرضعتني وأباها ثويبة فلا (تعرضن) (٩) عليّ بناتكن ولا (أخواتكن) (١٠) " (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ میری بہن یعنی ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کرنا پسند کریں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں۔ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ بنت ابی سلمہ کے لئے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ حضور ﷺ نے استفسار فرمایا کہ ابو سلمہ کی بیٹی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ میری پرورش میں نہ بھی ہوتی تو میرے لئے حلال نہیں تھی، کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھے اور اس کے والد کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ مجھے اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کی دعوت نہ دو ۔

حواشی
(١) في [س]: (أبو).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [هـ]: (أبي).
(٤) حذفها الطابع من [هـ].
(٥) في [جـ، ز، ك]: (أن).
(٦) في [أ، ب]: (أنها).
(٧) في [س]: (تحطبب).
(٨) في [هـ]: (أبي).
(٩) في [س]: (تعرضن).
(١٠) في [ز، ك]: (أخواتهن).
(١١) معلول، أخطا فيه هشام بالعراق فجعله من حديث عروة عن زينب عن أم سلمة، والحديث أخرجه أحمد (٢٦٦٣٢)، والطبراني ٢٣/ (٩٠٤)، كما أخرجه أبو داود (٢٠٥٦)، وأبو يعلى (٧٠٠١)، وابن الجارود (٦٨٠)، كما ورد من طريق عروة عن زينب عن أم سلمة عن أم حبيبة أخرجه النسائي (٥٤١٨)، وأخرجه أحمد (٧٤٥٢)، والمروزي في السنة (٨٩)، وإسحاق (١٩٥٩) من حديث زينب، وصواب الحديث أنه من طريق زينب عن أم حبيبة كما أخرجه البخاري (٥١٠٦)، ومسلم (١٤٤٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17918
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17918، ترقيم محمد عوامة 17322)