مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرضاع، من قال: لا (تحرم) (الرضعتان) ولا الرضعة باب: رضاعت کا بیان: جن حضرات کے نزدیک ایک یا دو چسکیاں لینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی
١٧٩٠٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال: (كانت) (١) عائشة إذا أرادت أن يدخل عليها أحد أمرت به فأرضع، فأمرت أم كلثوم أن ترضع سالمًا عشر رضعات فأرضعته ثلاثًا فمرضت فكان لا يدخل عليها، وأمرت فاطمة بنت عمر أن ترضع عاصم بن (سعد) (٢) مولى لهم فأرضعته عشر رضعات فكان يدخل عليها (٣).حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب کسی بچے کے بارے میں یہ ارادہ ہوتا کہ وہ بڑا ہو کر ان سے ملاقات کے لئے آسکے تو اپنی کسی عزیزہ خاتون کو حکم دیتی کہ وہ اسے دودھ پلا دیں۔ (تاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی رضاعی خالہ یا پھوپھی بن جائیں) اس سلسلے میں انہوں نے (اپنی بہن) حضرت ام کلثوم کو حکم دیا کہ وہ حضرت سالم کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں، (تاکہ سالم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے بن جائیں) انہوں نے انہیں تین چسکیاں پلائیں اور وہ بیمار ہوگئیں، لہٰذا وہ بڑے ہوکر ان کے پاس نہیں آتے تھے۔ اسی طرح (حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ) نے فاطمہ بنت عمر کو حکم دیا کہ عاصم ابن سعد کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں (تاکہ عاصم بن سعد ان کے رضاعی بھانجے بن جائیں) چناچہ انہوں نے اس طرح کیا تو وہ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔