مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يطلق امرأته ثلاثا فتزوج زوجا باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور وہ کسی اور آدمی سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17797
١٧٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) سفيان بن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى النبي ﷺ فقالت: إني كنت عند رفاعة القرظي فطلقني (فبت) (٢) طلاقي (فتزوجت) (٣) عبد الرحمن بن الزبير وإنما ⦗٤١٤⦘ معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول اللَّه ﷺ وقال: "تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى (تذوقي) (٤) [عسيلته ويذوق] (٥) عسيلتك" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر میں نے عبد الرحمن بن زبیر سے شادی کی، وہ محض کپڑے کی جھالر کی طرح تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ” اگر تم رفاعہ کے نکاح میں واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہو تو یہ اس وقت تک درست نہیں جب تک تم دوسرے خاوند کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے “
حواشی
(١) في [س، هـ]: (نا).
(٢) في [س]: (فثبت).
(٣) في [ك]: (فتزوج).
(٤) في [جـ]: (تذوفين)، وفي [ك]: (تذوقن).
(٥) في [ط]: سقط (عسيلته ويذوق).