حدیث نمبر: 17789
١٧٧٨٩ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان (التمار العصفري) (١) قال: سمعت سعيد ابن جبير يقول: كن بغايا بمكة قبل الإسلام فكان رجال يتزوجونهن فينفقن عليهم ما أصبن فلما جاء الإسلام تزوجهن رجال من أهل الإسلام فحرم رسول اللَّه ﷺ ذلك عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ عورتیں اسلام سے پہلے مکہ میں فحاشی کا دھندہ کرتی تھیں۔ لوگ ان سے شادی کرتے تھے اور ان پر خرچ کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو کچھ مسلمان مردوں نے بھی ان سے شادی کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے نکاح کو حرام قرار دے دیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (الثوري)، وفي [أ]: (النمار الصفري)، وفي [س]: (التمار الصغرى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17789
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17789، ترقيم محمد عوامة 17204)