مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل ما له من امرأته إذا كانت حائضا؟ باب: آدمی حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟
١٧٦٧٧ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن عاصم بن عمرو البجلي قال: خرج ناس من أهل العراق فلما قدموا على عمر قال لهم: (ممن) (١) أنتم؟ قالوا: من أهل العراق، قال: فبإذن جئتم؟ قالوا: نعم! فسالوا عما يحل للرجل من امرأته، وهي حائض، فقال: سألتموني عن خصال ما سالني (عنهن) (٢) أحد بعد أن سألت رسول اللَّه ﷺ فقال: "أما ما للرجل من امرأته وهي حائض فله ما فوق الأزار" (٣).حضرت عاصم بن عمرو بجلی فرماتے ہیں کہ کچھ اہل عراق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کون ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم عراقی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم اجازت سے آئے ہو ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں۔ پھر ان لوگوں نے سوال کیا کہ حیض کی حالت میں عورت سے کچھ کیا جاسکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وہ سوال کیا ہے جو مجھ سے اس وقت کے بعد سے کسی نے نہیں کیا جب سے میں نے یہ بات حضور ﷺ سے معلوم کی ہے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ حیض کی حالت میں آدمی عورت کے ازار کے اوپر سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔