حدیث نمبر: 17638
١٧٦٣٨ - حدثنا أبو بكر عن وكيع عن عمرو بن مروان عن عبد الرحمن الصدائي عن علي قال: جاء إليه رجل قال: إن لي ابنة عم أهواها وقد كنت نلت منها، فقال: إن كان شيئًا باطنًا يعني الجماع فلا، وإن كان شيئًا ظاهرًا يعني القبلة فلا بأس (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدا لرحمن صدائی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک چچا زاد بہن ہے، میں اس سے محبت کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔ البتہ میں نے اس سے تلذذ بھی حاصل کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر شیء باطن یعنی دخول کیا ہے تو شادی نہیں کرسکتے اور اگر شیء ظاہر یعنی بوسہ وغیرہ لیا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن الصدائي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17638
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17638، ترقيم محمد عوامة 17064)