حدیث نمبر: 17633
١٧٦٣٣ - حدثنا الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: بلغني (أن) (١) عمر بن عبد العزيز سئل عن امرأة أصابت خطيئة ثم (رأى) (٢) منها خيرًا، أينكحها الرجل؟ فقال له: (عمر) (٣) (كما بلغني) (٤): (أتظن) (٥) (أني) (٦) (أنهاك) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک عورت کسی مرد سے مبتلاء گناہ ہو، پھر بعد میں اس عورت کے اعمال و افعال سے خیرکا صدور ہونے لگے تو کیا وہ اس مرد سے شادی کرسکتی ہے ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں اس سے منع کروں گا ؟ !

حواشی
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [جـ، ع]: (رئي).
(٣) سقط من: [س، ط، هـ].
(٤) سقط من: [س]، وتأخر في: [هـ].
(٥) في [ب، س، هـ]: (الظن).
(٦) في [ك]: (أبي)، وفي [هـ]: (أي).
(٧) في [س، هـ]: (إنها له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17633
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17633، ترقيم محمد عوامة 17059)