حدیث نمبر: 1761
١٧٦١ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: خرجنا وفدا حتى قدمنا (على رسول اللَّه) (١) ﷺ فبايعناه، (وصلينا) (٢) معه، فجاء رجل فقال: يا رسول اللَّه ما ترى في مس الذكر في الصلاة؟ فقال: "وهل هو إلا بضعة، أو مضغة منك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! نماز کے دوران مس ذکر کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ وہ تمہارا ایک عضو ہی تو ہے۔

حواشی
(١) في [أ، خ، ك]: (على نبي اللَّه).
(٢) في [أ، خ، د]: (فصلينا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1761
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ قيس بن طلق وملازم بن عمرو صدوقان، أخرجه أبو داود (١٨٢) والترمذي (٨٥) والنسائي (١٦٥) وابن حبان (١١١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1761، ترقيم محمد عوامة 1756)