مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (تكون) تحته الوليدة فيطلقها طلاقا بائنا فترجع إلى سيدها فيطأها؛ ألزوجها أن يراجعها؟ باب: ایک شخص کے نکاح میںکوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی توکیا خاوند اس سے رجوع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17575
١٧٥٧٥ - حدثنا حفص (عن ليث) (١) عن طاوس قال: إذا طلقها تطليقتين ثم وطئها السيد تزوجها إن شاء (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی باندی بیوی کو دو طلاقیں دیں پھر اس کے آقا نے اس سے جماع کرلیا تو وہ اس سے شادی کرسکتا ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) ورد في [أ، ب، س، ط، هـ]: هنا خبران يتعلقان بالجمع بين القريبتين وستأتي برقم [١٧٥٥٣] في باب [١٢٠]: (في الرجل تكون تحته المرأة، فيطلقها، فيتزوج أختها في عدتها).