مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (تكون) تحته الوليدة فيطلقها طلاقا بائنا فترجع إلى سيدها فيطأها؛ ألزوجها أن يراجعها؟ باب: ایک شخص کے نکاح میںکوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی توکیا خاوند اس سے رجوع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17574
١٧٥٧٤ - حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر (عن إبراهيم) (١) في الأمة يطلقها زوجها تطليقتين ثم يغشاها سيدها: إنها لا تحل لزوجها ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: ٢٣٠].مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو دو طلاقیں دے دے۔ پھر اس باندی کا آقا اس سے وطی کرے تو وہ پہلے خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
حواشی
(١) سقط من: [س، ط، هـ].