حدیث نمبر: 17573
١٧٥٧٣ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن (أن) (١) زيد بن ثابت والزبير بن العوام! كانا لا يريان بأسًا إذا طلق الرجل امرأته وهي أمة تطليقتين ثم غشيها سيدها (غشيانا) (٢) لا يريد بذلك مخادعة ولا إحلالًا أن ترجع إلى زوجها (بخطبة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن ثابت اور حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایسی بیوی کو دو طلاقیں دے دے جو باندی ہو پھر اس کا آقا اس سے جماع کرلے اور اس سے مقصود کوئی دھوکہ وغیرہ نہ ہو تو وہ اپنے پہلے خاوند کے پاس نکاح کے ذریعے واپس جاسکتی ہے۔

حواشی
(١) في [ك]: (ابن)، وفي [هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [ف].
(٣) في [س]: (تخبطه)، وفي [هـ]: (تخطبه).
(٤) منقطع حكمًا؛ الحسن مدلس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17573، ترقيم محمد عوامة 17003)