مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (تكون) تحته الوليدة فيطلقها طلاقا بائنا فترجع إلى سيدها فيطأها؛ ألزوجها أن يراجعها؟ باب: ایک شخص کے نکاح میںکوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی توکیا خاوند اس سے رجوع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17573
١٧٥٧٣ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن (أن) (١) زيد بن ثابت والزبير بن العوام! كانا لا يريان بأسًا إذا طلق الرجل امرأته وهي أمة تطليقتين ثم غشيها سيدها (غشيانا) (٢) لا يريد بذلك مخادعة ولا إحلالًا أن ترجع إلى زوجها (بخطبة) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت اور حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایسی بیوی کو دو طلاقیں دے دے جو باندی ہو پھر اس کا آقا اس سے جماع کرلے اور اس سے مقصود کوئی دھوکہ وغیرہ نہ ہو تو وہ اپنے پہلے خاوند کے پاس نکاح کے ذریعے واپس جاسکتی ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (ابن)، وفي [هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [ف].
(٣) في [س]: (تخبطه)، وفي [هـ]: (تخطبه).
(٤) منقطع حكمًا؛ الحسن مدلس.