مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل (تكون) تحته الوليدة فيطلقها طلاقا بائنا فترجع إلى سيدها فيطأها؛ ألزوجها أن يراجعها؟ باب: ایک شخص کے نکاح میںکوئی باندی تھی، اس نے اسے طلاق بائنہ دے دی، وہ اپنے آقا کے پاس واپس آئی اور اس نے اس سے وطی کی توکیا خاوند اس سے رجوع کرسکتاہے؟
حدیث نمبر: 17572
١٧٥٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن (عمرو) (١) بن هرم قال: سئل جابر بن زيد عن رجل كانت له امرأة مملوكة فطلقها ثم أن سيدها تسراها ثم تركها، ⦗٣٦٣⦘ أتحل (لزوجها) (٢) الذي طلقها (أن يراجعها) (٣)؟ قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اس کو طلاق دے دے پھر اس کا آقا اس سے جماع کرے تو کیا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے۔ انہوں نے فرمایا وہ عورت اب پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔
حواشی
(١) في [س]: (عمر).
(٢) في [س]: (زوجها).
(٣) سقط من [هـ، س، ط].