مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المفقود يجيء وقد تزوجت امرأته باب: گم شدہ شخص واپس آئے اور اس کی بیوی شادی کرچکی ہو تو کیا حکم ہے؟
١٧٥٥٨ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب قال: جاء رجل إلى إبراهيم فقال: إنه تزوج امرأة كان نعي إليها زوجها (وإنه) (١) جاء كتاب منه أنه حي (قال) (٢): فقال إبراهيم: اعتزلها، فإذا قدم فإن شاء اختار الذي أصدقها (وكانت) (٣) امرأتك على حالها، وإن اختار المرأة (فإن) (٤) انقضت عدتها منك فهي امرأة الأول ولها ما أصدقها (بما) (٥) استحل من فرجها قال: (أفأواكلها) (٦)؟ قال: نعم! ولا (تدخل) (٧) عليها حتى تؤذنها.حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ابراہیم کے پاس آیا اور کہا کہ ایک عورت کو اس کے خاوند کے انتقال کرجانے کی خبر ملی اور اس نے شادی کرلی تو بعد میں اس کے زندہ ہونے کا خط آگیا۔ ابراہیم نے فرمایا کہ جب وہ آئے تو اپنی بیوی سے دور رہے۔ پھر اگر چاہے تو مہر واپس لے لے اور عورت اپنی حالت پر باقی رہے گی اور اگر وہ عورت کو اختیار کرلے تو عدت گزرنے کے بعد وہ اسی کی بیوی ہوگی۔ البتہ دوسرے خاوند کی طرف سے اسے مہر ضرور ملے گا۔ اس شخص نے کہا کہ کیا میں اس عورت کی مواکلت کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں البتہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس مت جانا۔