مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يرى في مس الذكر وضوء باب: جن حضرات کے نزدیک ”مس ذکر“ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1742
١٧٤٢ - حدثنا ابن علية عن سلمة (١) بن علقمة عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن قوله تعالى: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [النساء: ٤٣] وقال بيده (فظننت) (٢) ما عنى، فلم (أسأله) (٣): (قال) (٤): ونبئت أن ابن عمر كان إذا مس فرجه توضأ، قال ⦗٣٥٠⦘ (محمد) (٥): فظننت أن قول ابن عمر، وقول عبيدة شيء واحد (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں پس میں نے ان سے سوال نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب شرم گاہ کو ہاتھ لگاتے وضو کیا کرتے تھے۔ محمد فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبیدہ کا قول ایک ہی ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (هو التميمي أبو بشر البصرى، قال الإمام أحمد: بخ ثقة).
(٢) في [د]: (فطلبت).
(٣) في [أ، جـ، خ]: (أسله).
(٤) سقط من: [أ، خ].
(٥) زيادة من [هـ].
(٦) أثر ابن عمر منقطع، أخرجه عبد الرزاق (٤١٧).