مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يرى في مس الذكر وضوء باب: جن حضرات کے نزدیک ”مس ذکر“ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1741
١٧٤١ - حدثنا ابن علية عن عبد اللَّه بن أبي بكر قال: سمعت عروة بن الزبير يحدث أبي قال: (ذاكرني) (١) (مروان) (٢) مس الذكر فقلت: ليس فيه وضوء قال: فإن بسرة ابنة صفوان تحدث فيه فبعث إليها رسولًا، فذكر أنها حدثت أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من مس ذكره فليتوضأ" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ مروان نے مجھ سے مسِّ ذکر کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا کہ اس میں وضو نہیں ہے۔ وہ کہنے لگے کہ بسرہ بنت صفوان نے اس بارے میں حدیث بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے بسرہ کی طرف ایک قاصد بھیجا جس نے آ کر بتایا کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آلۂ تناسل کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
حواشی
(١) في [أ، خ، د، هـ] (ذكر لي).
(٢) في [د]: (مروان بن الحكم).