مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يزوج الرجل فينكر، ما حال الصداق؟ باب: اگر ایک آدمی دوسرے کا نکاح کرادے اور دولہا بعد میں انکار کرے تو مہر کی کیا صورت ہوگی؟
حدیث نمبر: 17396
١٧٣٩٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر في رجل كتب إلى أبيه أو إلى مولاه أدى يزوجه فزوجه فجاء فأنكر عليه، قال الشعبي: (إن) (١) أجاز الزوج النكاح فهو جائز وإدى لم يجز (هـ) (٢) فليس بشيء وليس على واحد منهما صداق إن لم يكن دخل بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنے باپ یا مولی کو خط لکھا کہ اس کی شادی کرادے۔ انہوں نے شادی کرادی، لیکن اس نے انکار کردیا تو اس بارے میں حضرت شعبی فرماتے تھے کہ اگر خاوند نکاح کو باقی رکھے تو ٹھیک ورنہ اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور شرعی ملاقات سے پہلے کسی پر مہر بھی واجب نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (إذا).
(٢) سقط من: [س].