مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الفأرة والدجاجة وأشباههما تقع في البئر باب: اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہوگا ؟
حدیث نمبر: 1738
١٧٣٨ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن ابن عباس (١) أن زنجيا وقع في زمزم فمات (قال) (٢): فأنزل إليه رجلًا، فأخرجه، (ثم قال) (٣): انزفوا ما فيها من ماء، ثم قال للذي في البئر: ضع دلوك من قبل العين التي تلي البيت، أو الركن، فإنها من عيون الجنة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی بئر زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں ایک آدمی کو اتارا جس نے اس کو باہر نکالا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کا سارا پانی نکالو۔ پھر آپ نے کنویں میں موجود شخص سے فرمایا کہ اس چشمے کی طرف سے پانی نکالو جو بیت اللہ یا رکن کی طرف ہے کیونکہ یہ جنت کا چشمہ ہے۔
حواشی
(١) في [خ]: (﵁).
(٢) سقط من: [أ، خ].
(٣) سقط من: [أ].