مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الفأرة والدجاجة وأشباههما تقع في البئر باب: اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہوگا ؟
حدیث نمبر: 1737
١٧٣٧ - حدثنا هشيم عن منصور عن عطاء أن حبشيا وقع في زمزم، فمات (قال) (١): فأمر ابن الزبير أن ينزف ماء زمزم، قال: فجعل الماء لا ينقطع قال: ⦗٣٤٨⦘ فنظروا، فإذا عين تنبع من قبل الحجر الأسود (قال) (٢): فقال ابن الزبير: حسبكم (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی چاہ زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن الزبیر نے حکم دیا کہ اب بئر زمزم کا سارا پانی نکالا جائے۔ لوگ پانی نکالنے لگے لیکن پانی بند نہ ہوتا تھا۔ دیکھا گیا کہ حجر اسود کی جانب سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے زمزم کا پانی بند نہیں ہوتا۔ حضرت ابن الزبیر نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
حواشی
(١) سقط في [خ].
(٢) سقط من: [خ].