مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الأمة تعتق ولها زوج حر باب: وہ باندی جسے آزاد کردیا جائے اور اس کا خاوند کوئی آزاد ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 17342
١٧٣٤٢ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن نافع أن صفية بنت أبي عبيد كان لها عبد فزوجته جارية (لها) (١) بكرًا، فكانت تكره زوجها وكانت (تريد) (٢) عتقها مخافة أن تعتق الوليدة فتفارق زوجها، فأعتقت العبد حتى إذا أثبت (العتق) (٣) أعتقت الوليدة بعد ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید کا ایک غلام تھا۔ انہوں نے اس کی شادی اپنی ایک باکرہ باندی سے کرادی۔ وہ باندی اپنے خاوند کو پسند نہیں کرتی تھی اور آزاد ہونا چاہتی تھی۔ صفیہ بنت ابی عبید کو اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے باندی کو آزاد کیا تو وہ اپنے خاوند سے علیحدہ ہوجائے گی۔ پس انہوں نے پہلے غلام کو آزاد کردیا اور پھر بعد میں باندی کو آزاد کیا۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، ك]: زيادة (لها).
(٢) في [ب]: (تزيد).
(٣) في [س، هـ]: (العتيق).