حدیث نمبر: 17269
١٧٢٦٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن رافع بن خديج كانت تحته نجت محمد بن مسلمة فكره من أمرها إما كبرا أو (إما غيره) (٢) فأراد أن يطلقها فقالت: لا تطلقني واقسم (لي) (٣) ما شئت فجرت السنة بذلك فنزلت: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [النساء: ١٢٨] (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی حضرت رافع بن خدیج کے نکاح میں تھیں۔ رافع بن خدیج کو ان کا ادھیڑ پن یا کوئی اور چیز بری لگی تو انہوں نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن خاتون نے کہا کہ آپ مجھے طلاق نہ دیں بلکہ میرے لئے جو چاہیں حق میں سے تقسیم کرلیں۔ اس کے بعد سے یہ دستور بن گیا اور قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی : اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ)

حواشی
(١) في [ز]: (عتبة).
(٢) في [هـ]: (أو غيره).
(٣) في [أ، ب، ط]: ما بين القوسين ساقطة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17269
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد تابعي، أخرجه الشافعي في المسند ١/ ٢٦٠، والبيهقي ٧/ ٧٥، وعبد الرزاق (١٠٦٥٣)، والحاكم ٢/ ٣٠٨، وابن أبي حاتم في التفسير (٦٠٤٤)، وابن جرير ٥/ ٣٠٩، وعبد الرزاق في التفسير ١/ ١٧٥، ومالك في المدونة ٥/ ٣٣٥، والواحدي ص ٢١٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17269، ترقيم محمد عوامة 16726)