مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
ما قالوا في مهر النساء واختلافهم في ذلك باب: مہر کے بارے میں علماء کی آراء اور اختلاف
حدیث نمبر: 17164
١٧١٦٤ - حدثنا حفص عن أشعث وهشام عن ابن سيرين عن أبي العجفاء (السلمي) (١) عن (عمر) (٢) قال: لا تغالوا في مهور النساء فإنها لو كانت مكرمة (في) (٣) الدنيا أو تقوى عند اللَّه لكان (أحقكم بها) (٤) محمد وأولاكم، ما (زوج) (٥) بنتًا من بناته ولا تزوج شيئًا من نسائه إلا على (اثنتي) (٦) عشر أوقية (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کو بہت زیادہ مہر نہ دو ، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی عزت کی چیز ہوتی یا تقویٰ کا سبب ہوتی تو محمد ﷺ اور آپ کی اولاد اس کے زیادہ حقدار ہوتے۔ حالانکہ آپ نے اپنی تمام صاحبزادیوں کا نکاح اور اپنی تمام ازواج سے نکاح بارہ اوقیہ چاندی پر کیا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الأسلمي).
(٢) في [أ]: (عمير).
(٣) في [س]: (عن).
(٤) في [أ]: (أحفكم لها).
(٥) في [أ، جـ، ب، ز، ك]: (تزوج).
(٦) في [هـ، ط]: (اثنى)، وفي [س]: (اثنا).