حدیث نمبر: 17136
١٧١٣٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: كنت جالسًا مع ابن عباس في زمزم فأتاه رجل فذكر أنه يسقط امرأته فزعمت أنها ⦗٢٦١⦘ فجرت، فقال له ابن عباس: (فبئس) (١) ما صنعت إن كنت فعلت مثل الذي أقرت به على نفسها! فأمسك (عليك) (٢) امرأتك وإن (كنت) (٣) لم تفعل (فخل) (٤) سبيلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدا للہ بن شداد فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ما کے ساتھ بئر زمزم کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو بچہ ضائع کرنے پر مجبور کیا کیونکہ اس عورت کا کہنا تھا کہ اس نے بدکاری کی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا۔ کیونکہ اگر تم نے بھی اس جیسا کام کیا ہے جس کا وہ اپنے لئے اقرار کررہی ہے تو اسے اپنی بیوی بنا کر رکھو اور اگر تم نے ایسا کام نہیں کیا تو اس کا راستہ چھوڑ دو ۔

حواشی
(١) في [ب]: (فبنيسة).
(٢) في [ك، جـ، ز]: زيادة (عليك).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك، ز، س، ط]: (كان)، وفي [ف]: (كانت).
(٤) في [س]: (فخلع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17136، ترقيم محمد عوامة 16602)