مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في (الجارية) النصرانية (و) اليهودية تكون لرجل يطؤها أم لا؟ باب: نصرانیہ اور یہودیہ باندی سے جماع کرنا جائز ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 17113
١٧١١٣ - حدثنا يزيد عن حبيب عن عمرو بن هرم قال: سئل جابر بن (زيد) (١) عن الرجل يشتري الجارية من السبي فيقع عليها قال: (لا) (٢) حتى يعلمها الصلاة والغسل من الجنابة وحلق العانة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ہرم فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی کسی قیدی باندی کو خرید لے تو کیا اس سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت تک جماع نہیں کرسکتا جب تک اسے نماز، غسلِ جنابت اور زیرناف بال صاف کرنا نہ سکھا دے۔
حواشی
(١) في [ز]: (سعيد).
(٢) في [س]: سقطت (لا).