مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في (الجارية) النصرانية (و) اليهودية تكون لرجل يطؤها أم لا؟ باب: نصرانیہ اور یہودیہ باندی سے جماع کرنا جائز ہے یانہیں؟
حدیث نمبر: 17106
١٧١٠٦ - حدثنا (جرير عن) (١) مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (سبيت) (٢) اليهوديات والنصرانيات عرض عليهن الإسلام (وجبرن) (٣) عليه، فإن أسلمن أو لم يسلمن (وطئن) (٤) واستخدمن.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب یہودی یا نصرانی عورتوں کو قیدی بنایا جائے تو انہیں اسلام کی دعوت دی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر اصرار کیا جائے گا۔ پھر وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں ان سے جماع کیا جاسکتا ہے اور ان سے خدمت بھی لی جاسکتی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (وسبت).
(٣) في [أ، ب]: (وخيرن)، وفي [ز، جـ]: (وخيرت)؛ وفي [هـ]: (جرن).
(٤) في [س، هـ]: (اوطئن).