حدیث نمبر: 1705
١٧٠٥ - حدثنا عباد بن العوام عن (برد) (١) عن سليمان بن موسى عن أبي هريرة قال لما نزلت آية التيمم لم (أدر) (٢) كيف أصنع؟، فأتيت النبي ﷺ فلم أجده، فانطلقت أطلبه فاستقبلته، فلما (رأني) (٣)، عرف الذي جئت له، فبال، ثم ضرب بيديه الأرض، فمسح بهما وجهه، وكفيه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب آیت تیمم نازل ہوئی تو مجھے تیمم کا طریقہ معلوم نہ تھا۔ لہٰذا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن میں نے آپ کو نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ میں کیوں آیا ہوں۔ لہٰذا آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان دونوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر مل لیا۔
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن سفيان).
(٢) في [هـ]: (أتر).
(٣) في [أ، ب، خ، هـ]: (رأى).
(٤) منقطع؛ سليمان بن موسى لم يدرك أبا هريرة، قال الحافظ في المطالب (١٥٥): منقطع.