مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
١٧٠٤٨ - حدثنا عبد الأعلى عن ابن إسحاق عن عاصم بن عمر (بن) (١) قتادة عن القاسم بن محمد أن حيًّا من أحياء العرب سألوا معاوية عن (الأختين) (٢) مما ⦗٢٤٢⦘ ملكت اليمين يكونان عند الرجل فيطأهما قال: ليس بذلك بأس، (فسمع) (٣) بذلك النعمان بن بشير فقال: أفتيت بكذا وكذا؟ قال: نعم! (قال) (٤): أرأيت لو كانت عند رجل (أخته) (٥) مملوكة كان يجوز له أن (يطأهما) (٦)، فقال: (أما) (٧) واللَّه إنما رددتني أدرك فقل لهم اجتنبوا ذلك فإنه لا ينبغي لهم، قال: قلت: إنما هي الرحم من (العتاقة) (٨) وغيرها (٩).حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عرب کے ایک قبیلے نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی دومملوک بہنوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے اس کے جواز کا فتوی دیا۔ یہ بات حضرت نعمان بن بشیر کو پہنچی، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھاتو انہوں نے اس فتویٰ کا اقرار کیا۔ اس پر حضرت نعمان بن بشیرنے فرمایا کہ آپ یہ بتائیں کہ اگر وہ باندی کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی جس کی بہن باندی ہو تو کیا اس کے لئے اس سے وطی کرنا جائز ہے ؟ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں ایسا کرنے سے منع کرو۔ ان کے لئے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔ حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ آزادی وغیرہ کا رحمی رشتہ ہے۔