مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل يكون عنده الأختان مملوكتان فيطأهما جميعا باب: اگر کسی آدمی کے پاس دو مملوک بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 17037
١٧٠٣٧ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) عن مالك بن أنس عن الزهري عن قبيصة بن ذؤيب قال: سئل عثمان بن عفان عن الأختين (من) (٢) ملك اليمين يجمع ⦗٢٤٠⦘ بينهما، فقال: أحلتهما آية من كتاب اللَّه و (حرمتهما) آية وأما أنا فما أحب أن أفعل ذلك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا دو مملوک بہنوں سے جماع کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ کی ایک آیت نے اسے حلال اور دوسری نے حرام کیا ہے۔ البتہ میں تو ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔
حواشی
(١) في [ز]: (مخلدة).
(٢) في [س، ف]: (عن).