مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل (يكون) تحته الأمة المملوكة وابنتها فيريد أن يطأ أنها باب: اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 17030
١٧٠٣٠ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن أبي نضرة قال: جاء رجل إلى عمر (قال) (١): إن لي وليدة وابنتها وإنهما قد (أعجباني) (٢) (أفأطاهما) (٣)؟ قال: آية أحلت وآية حرمت، أما أنا فلم أكن (أقرب هذا) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک باندی اور اس کی بیٹی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں سے جماع کروں، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک آیت نے اسے حلال کیا اور ایک نے حرام۔ البتہ میں تو اس عمل کے قریب بھی نہ جاتا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (فقال).
(٢) في [ز، ك]: (أعجبتاني).
(٣) في [جـ، ك، هـ]: (أفاطيهما).
(٤) في [أ، ب، ك]: (أقر بهذا).
(٥) منقطع، أبو نضرة لم يدرك عمر.