مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل (يكون) تحته الأمة المملوكة وابنتها فيريد أن يطأ أنها باب: اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 17025
١٧٠٢٥ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن أبي الزناد عن عبد اللَّه بن (نيار) (١) الأسلمي قال: كانت عندي جارية كنت ⦗٢٣٦⦘ (أطأها) (٢) وكانت معها ابنة لها، فأدركتْ ابنتُها فأردت أن (أمسك) (٣) عنها و (أتطئ) (٤) ابنتها (فقلت) (٥): لا أفعل ذلك حتى أسأل عثمان بن عفان، فسألته عن ذلك فقال: أما أنا فلم أكن ليطلع منهما مطلعًا واحدًا (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن نیار اسلمی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک باندی تھی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ جب اس کی بیٹی جوان ہوگئی تو میں نے سوچا کہ اس باندی کو چھوڑ کر اس کی بیٹی سے جماع کروں۔ میں نے دل میں سوچا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھے بغیر ایسا ہرگز نہ کروں گا۔ چناچہ میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو دونوں کے ساتھ ہرگز صحبت کا معاملہ نہ کروں۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (يسار).
(٢) في [جـ، ز]: (أتطئها).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (أسأل).
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (أنظر).
(٥) في [هـ]: (فقالت).
(٦) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس.