مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل (يكون) تحته الأمة المملوكة وابنتها فيريد أن يطأ أنها باب: اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 17024
١٧٠٢٤ - حدثنا أبو الأحوص عن طارق عن قيس عن (ابن أبي حازم) (١) قال: قلت لابن عباس: الرجل يقع على الجارية وابنتها (يكونان) (٢) عنده (مملوكين) (٣) فقال: حرمتهما آية وأحلتهما آية أخرى ولم أكن لأفعله (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں موجود باندی اور اس کی بیٹی سے جماع کرے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں کو ایک آیت نے حرام اور دوسری نے حلال کیا ہے۔ البتہ میں ایسا ہرگز نہ کرتا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ز، ك، هـ]: (عن أبي عاصم)، وانظر: سنن الدارقطني ٣/ ٢٨٢.
(٢) في [ك، هـ]: (تكونان).
(٣) في [ف]: (مملوكتين).