مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل (يكون) تحته الأمة المملوكة وابنتها فيريد أن يطأ أنها باب: اگر ایک آدمی کی ملکیت میں باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں اور وہ ایک سے جماع کرنا چاہے تو شرعی حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 17023
١٧٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) عن أبيه قال: سئل عمر عن جمع الأم وابنتها من ملك اليمين فقال: لا أحب أن (يخبرهما) (٢) جميعًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں ایک باندی اور اس کی بیٹی دونوں ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ ان دونوں سے جماع کرے۔
حواشی
(١) في [س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: فقوله: (نخبرهما) بخاء معجمة ساكنة بعد نون مفتوحة ثم موحدة مضمومة ثم راء مهملة أي يطاهما ومنه قيل للمزارعة مخابرة وقال تعالى: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ﴾ [البقرة: ٢٢٣]، كذا أفاده ابن عبد البر في الاستذكار شرح موطأ مالك فتنبه. هـ. وفي [هـ]: (يحرمهما)، وفي مسند الشافعي ١/ ٢٨٩، وسنن البيهقي ٧/ ١٦٤: (يجيزهما)، وانظر: الاستذكار ١٦/ ٢٤٨.