مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في (الرجل) يعتق أمته (لله) (تعالى)، أله أن يتزوجها؟ باب: اگر ایک شخص نے اپنی باندی کو اللہ کے لئے آزاد کیا تو وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
١٦٩٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة أن بشير بن كعب قرأ هذه الآية: ﴿(فَامْشُوا) (١) فِي مَنَاكِبِهَا﴾ [الملك: ١٥]، فقال لجاريته: إن دريت ما مناكبها فأنت حرة لوجه اللَّه قالت: فإن مناكبها (جبالها) (٢) (فكأنما سفع) (٣) وجهه ورغب في جاريته فجعل يسأل عن ذلك فمنهم من يأمره ومنهم من ينهاه حتى لقي أبا الدرداء فذكر ذلك له فقال: دع ما يريبك إلى ما لا يريبك فإن الخير في طمأنينة وإن الشر في ريبة (فترك) (٤) ذلك (٥).حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بشیر بن کعب نے یہ آیت پڑھی { فَامْشُوا فِی مَنَاکِبِہَا } پھر اپنی باندی سے کہا کہ اگر تم ” مناکبھا “ کا معنی بتادو تو تم آزاد ہو۔ اس نے کہا کہ اس سے مراد ” پہاڑ “ ہیں۔ یہ سنتے ہی بشیر بن کعب کا رنگ بدل گیا ! وہ اپنی اس باندی سے محبت کرتے تھے۔ اب انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا کہ اسے آزاد کروں یا نہیں۔ بعض نے آزاد کرنے کو کہا اور بعض نے اس سے منع کیا۔ انہوں نے حضرت ابوا لدردائ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرلو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔ خیر طمانیت کا نام ہے اور شک میں شر ہے۔ لہٰذا بشیر بن کعب نے اس باندی کو چھوڑ دیا۔